کامسیٹس یونیورسٹی اسلام، خزانچی(Treasurer)مشکوک تعیناتی۔۔۔
کومسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد (CUI) ایکٹ 2018 کی سنگین خلاف ورزیوں، ضوابط سے انحراف، اور خزانچی (Treasurer) کے اہم ترین آئینی عہدے پر غیر قانونی تسلسل کا ایک ایسا سنسنی خیز اور دستاویزی اسکینڈل سامنے آیا ہے جس نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں گڈ گورننس کے دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ اس پورے معاملے کا پردہ چاک اس وقت ہوا جب تحقیقاتی صحافی نعمان علی حیدر نے رائٹ ٹو انفارمیشن (RTI) ایکٹ 2017 کے تحت یونیورسٹی انتظامیہ سے جوابات طلب کیے اور بعد ازاں پاکستان انفارمیشن کمیشن (PIC) میں اپیل نمبر 5067-11/2025 دائر کی۔ حاصل شدہ سرکاری دستاویزات کے مطابق، موجودہ خزانچی مسٹر محمد اعظم کی تقرری کے لیے 22 جنوری 2017 کو روزنامہ جنگ میں باقاعدہ اشتہار جاری کیا گیا تھا، جس میں واضح طور پر یہ تحریر تھا کہ یہ تعیناتی ایک “مخصوص مدت” (Term Post / Contract) کے لیے ہوگی، جس میں تسلی بخش کارکردگی کی بنیاد پر ہی توسیع کی جا سکے گی۔ تاہم، اپریل 2018 میں کومسیٹس یونیورسٹی اسلام آباد ایکٹ 2018 کے نفاذ کے بعد، جہاں خزانچی کے عہدے کی مدت کو قانون کے تحت سخت شرائط کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تین (3) سال مقرر کیا گیا تھا، یونیورسٹی انتظامیہ نے ایک فاش انتظامی قدم اٹھایا۔ 15 جولائی 2019 کو ایڈیشنل رجسٹرار ایچ آر کی جانب سے ایک صریحاً غیر قانونی ایمپلائمنٹ کنفرمیشن لیٹر جاری کیا گیا، جس کے ذریعے اشتہار کی بنیادی شرائط اور اوپن میرٹ کے اصولوں کو یکسر پامال کرتے ہوئے ایک عارضی اور مخصوص مدت کے کنٹریکٹ کو براہِ راست ریٹائرمنٹ کی عمر (Superannuation) تک مستقل ملازمت میں تبدیل کر دیا گیا۔ سپریم کورٹ آف پاکستان کے مروجہ انتظامی قوانین اور فیصلوں کے مطابق، پبلک سیکٹر کا کوئی بھی ادارہ اشتہار کی بنیادی روح سے انحراف کرتے ہوئے کسی ٹرم پوسٹ کو ریگولرائز نہیں کر سکتا کیونکہ یہ ان تمام اہل امیدواروں کے حقوق پر ڈاکا ہے جنہوں نے عارضی اسامی سمجھ کر درخواست ہی نہیں دی تھی۔
اس اسکینڈل کا دوسرا اور سب سے انوکھا پہلو تاریخوں کا وہ فاش تضاد ہے جسے “انتظامی جادوگری” ہی کہا جا سکتا ہے۔ یونیورسٹی کے اپنے سرکاری ریکارڈ کے مطابق، مسٹر محمد اعظم نے یکم جنوری 2018 کو بطور خزانچی چارج سنبھال کر اپنی ڈیوٹی کا آغاز کر دیا تھا، جبکہ اس تقرری کی حتمی منظوری دینے والی مجاز اتھارٹی یعنی سابقہ بورڈ آف گورنرز (BoG) کا 46 واں اجلاس 12 فروری 2018 کو منعقد ہوا تھا۔ انتظامی قانون کے بنیادی اصولوں کے تحت کوئی بھی سرکاری افسر مجاز اتھارٹی کی تحریری اور حتمی منظوری سے پہلے نہ تو عہدے کا چارج لے سکتا ہے اور نہ ہی سرکاری دستاویزات یا فنڈز پر دستخط کر سکتا ہے۔ جب اس سنگین بے ضابطگی پر پاکستان انفارمیشن کمیشن کے سامنے جواب طلبی ہوئی، تو یونیورسٹی کے نمائندے ڈپٹی رجسٹرار عاصم مشتاق نے ایک انتہائی غیر ذمہ دارانہ عذر پیش کرتے ہوئے اعتراف کیا کہ “منظوری بعد میں لینا اور جوائننگ پہلے کرا لینا یونیورسٹی کا ایک عام مروجہ طریقہ کار (Norm) ہے”۔ کمیشن نے یونیورسٹی کے اس مضحکہ خیز دفاع کو مسترد کرتے ہوئے اپنے حتمی فیصلے میں واضح طور پر لکھا کہ پبلک باڈی اس عارضی کنٹریکٹ کو ریٹائرمنٹ تک برقرار رکھنے کا کوئی بھی ٹھوس قانونی یا انتظامی جواز پیش کرنے میں مکمل ناکام رہی ہے، اور کمیشن نے ریکٹر کومسیٹس کو گڈ گورننس کی بحالی کے لیے فوری “اصلاحی اقدامات” (Corrective Measures) اٹھانے کا باقاعدہ حکم جاری کیا۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ یونیورسٹی نے تحریری طور پر تسلیم کیا ہے کہ ایکٹ 2018 کے نفاذ کے بعد سے اب تک یونیورسٹی کے سب سے اعلیٰ ترین فورم “سینیٹ” (CUI Senate) کا خزانچی کی تقرری، توسیع یا سرچ کمیٹی کے پینل کی منظوری کے حوالے سے سرے سے کوئی اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا، جو کہ ایکٹ کی دفعات 42 اور 43 کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اس وقت تازہ ترین صورتحال یہ ہے کہ اس دستاویزی اور قانونی معرکے کے بعد، وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی (MoST) کے متعلقہ سیکشن آفیسر نے 4 جون 2026 کو دائر کردہ رسمی شکایت پر باقاعدہ نوٹس لیتے ہوئے ہائی پروفائل فائل کھول دی ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے انکوائری کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے